صحیح مسلم حدیث ۵۴۰۶ - ریشم پہننا نہیں، فائدہ لینا
ریشمی قبا کی حدیث: پہننے اور استعمال کا فرق
صحیح مسلم : ۵۴۰۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۴۰۶
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ رَأَى عَلَى رَجُلٍ مِنْ آلِ عُطَارِدٍ قَبَاءً مِنْ دِيبَاجٍ أَوْ حَرِيرٍ ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوِ اشْتَرَيْتَهُ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ " ، فَأُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةٌ سِيَرَاءُ ، فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيَّ ، قَالَ : قُلْتُ أَرْسَلْتَ بِهَا إِلَيَّ وَقَدْ سَمِعْتُكَ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ ، قَالَ : " إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَسْتَمْتِعَ بِهَا " .
ابن عمر روایت:
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو عطارد کی اولاد میں سے قبا پہنے دیکھا دیباج کا یا حریر کا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، آپ اس کو خرید لیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ریشمی جوڑا تحفہ میں آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو میرے پاس بھیج دیا۔ میں نے عرض کیا، یہ جوڑا آپ نے مجھے بھیجا اور میں تو سن چکا ہوں جو آپ نے اس کے باب میں فرمایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اس لیے بھیجا کہ تو اس سے فائدہ اٹھائے (بیچ کر)۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۴۰۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیباج یا حریر کی قبا پہنے دیکھا اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے عرض کیا کہ آپ اسے خرید لیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے جواب دیا کہ یہ وہ پہنتا ہے جس کا آخرت میں حصہ نہیں۔ پھر جب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس ریشمی جوڑا تحفے میں آیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا۔ انہوں نے پہلے سنی ہوئی بات یاد دلائی، تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ یہ اس لیے بھیجا ہے کہ تم اس سے فائدہ اٹھاؤ۔ اس روایت میں ریشم پہننے کی ممانعت اور ریشمی کپڑے سے جائز فائدہ لینے کا فرق نہایت صاف ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حریر کی قبا پہننے کے بارے میں سخت تنبیہ آئی ہے۔
- تحفہ ملنے کے بعد بھی شرعی حکم کو نظر انداز نہیں کیا جاتا۔
- ریشمی کپڑے سے فائدہ اٹھانا پہننے کے برابر نہیں ہے۔
- حدیث یاد رکھ کر اس کے مطابق سوال کرنا علم کا اچھا طریقہ ہے۔
