صحیح مسلم حدیث ۵۴۰۵ - دیباج اور حریر کا حکم
دیباج کے لباس کی حدیث: حکم کو سمجھ کر عمل کرنا
صحیح مسلم : ۵۴۰۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۴۰۵
وحدثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
ابن شہاب روایت:
ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۵۴۰۵ کا خلاصہ
یہ روایت اسی مضمون کی تائید کرتی ہے جو پچھلی روایت میں آیا ہے۔ دیباج اور استبرق دونوں ریشمی کپڑوں کے نام ہیں، اور اس بیچ کی روایات میں بار بار یہ بات آئی ہے کہ ایسے لباس کو خود پہننے سے بچایا گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے پہلے سنی ہوئی بات یاد دلائی تو آپ صلى الله عليه وسلم نے سمجھایا کہ جوڑا پہننے کے لیے نہیں بلکہ فائدہ اٹھانے کے لیے دیا گیا ہے۔ اس میں حریر کی حدیث کا ایک اہم پہلو ہے کہ آدمی جلدی نتیجہ نہ نکالے۔ نبی صلى الله عليه وسلم کی بات، پھر نبی صلى الله عليه وسلم کی وضاحت، دونوں کو ساتھ ملا کر سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی مضمون کی متعدد روایات حکم کو مزید واضح کرتی ہیں۔
- دیباج کا ملنا پہننے کی اجازت نہیں بن جاتا۔
- صحابہ کرام پہلے سنی ہوئی حدیث کو یاد رکھتے اور اس پر سوال کرتے تھے۔
- شرعی بات میں جلد بازی کے بجائے وضاحت طلب کرنا بہتر ہے۔
