صحیح مسلم حدیث ۵۴۰۹ - ریشمی نقش اور جبہ نبوی

ریشمی نقش کی حدیث: احتیاط، سوال اور جواب

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۴۰۹

حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، وَكَانَ خَالَ وَلَدِ عَطَاءٍ ، قال : أَرْسَلَتْنِي أَسْمَاءُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَقَالَتْ : بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَرِّمُ أَشْيَاءَ ثَلَاثَةً الْعَلَمَ فِي الثَّوْبِ ، وَمِيثَرَةَ الْأُرْجُوَانِ ، وَصَوْمَ رَجَبٍ كُلِّهِ ، فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ : أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ رَجَبٍ فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الْأَبَدَ ؟ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ الْعَلَمِ فِي الثَّوْبِ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يقول : سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ " ، فَخِفْتُ أَنْ يَكُونَ الْعَلَمُ مِنْهُ ، وَأَمَّا مِيثَرَةُ الْأُرْجُوَانِ فَهَذِهِ مِيثَرَةُ عَبْدِ اللَّهِ ، فَإِذَا هِيَ أُرْجُوَانٌ ، فَرَجَعْتُ إِلَى أَسْمَاءَ فَخَبَّرْتُهَا ، فَقَالَتْ : هَذِهِ جُبَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْرَجَتْ إِلَيَّ جُبَّةَ طَيَالِسَةٍ كِسْرَوَانِيَّةٍ لَهَا لِبْنَةُ دِيبَاجٍ ، وَفَرْجَيْهَا مَكْفُوفَيْنِ بِالدِّيبَاجِ فَقَالَتْ : هَذِهِ كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ ، حَتَّى قُبِضَتْ ، فَلَمَّا قُبِضَتْ قَبَضْتُهَا ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُهَا فَنَحْنُ نَغْسِلُهَا لِلْمَرْضَى يُسْتَشْفَى بِهَا .

عبداللہ روایت:

مجھ کو اسماء نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا اور کہلایا کہ میں نے سنا ہے تم حرام کہتے ہو تین چیزوں کو: ایک تو کپڑے کو جس میں ریشمی نقش ہوں۔ دوسرے ارجوان (یعنی سرخ ڈھڈھاتا) زین پوش کو۔ تیسرے تمام رجب کے مہینے میں روزے رکھنے کو۔ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رجب کے مہینے کے روزوں کو کون حرام کہے گا جو شخص ہمیشہ روزے رکھے گا (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمیشہ روزہ باستثناء عیدین اور ایام تشرق کے رکھتے تھے اور ان کا مذہب یہی ہے کہ صوم دھر مکروہ نہیں ہے) اور کپڑے کے ریشمی نقوشوں کا تو میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”حریر وہ پہنے گا جس کا آخرت میں حصہ نہیں۔“ تو مجھے ڈر ہوا کہ کہیں نقشی کپڑا بھی حریر نہ ہو اور ارجوانی زین پوش، تو خود عبداللہ رضی اللہ عنہ کا زین پوش ارجوانی ہے۔یہ سب میں نے جا کر سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے کہا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جبہ موجود ہے، پھر انہوں نے ایک جبہ نکالا کالی چادروں کا ان کی کسروانی (منسوب ہے طرف کسریٰ کی یعنی بادشاہ فارس کی) جس کا گریبان دیباج کا تھا اور اس کے دامنوں پر سنجاف تھے دیباج کے) سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: یہ جبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا ان کی وفات تک۔جب وہ مر گئیں تو یہ جبہ میں نے لے لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پہنا کرتے تھے اب ہم اس کو دھو کر اس کا پانی بیماروں کو پلاتے ہیں شفا کے لیے (سنجاف حریر یعنی ریشم کی چار انگل تک درست ہے اس سے زیادہ حرام ہے جیسے دوسری حدیث میں آتا ہے۔ (نووی رحمتہ اللہ علیہ)۔

صحیح مسلم حدیث ۵۴۰۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے تین باتوں کی وضاحت کرائی۔ ان میں ایک کپڑے پر ریشمی نقش کا مسئلہ تھا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، اور انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے سنا کہ حریر وہ پہنتا ہے جس کا آخرت میں حصہ نہیں۔ اسی وجہ سے انہیں ڈر تھا کہ کپڑے کا ریشمی نقش بھی اسی میں داخل نہ ہو۔ پھر سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا جبہ دکھایا جس کے گریبان اور کناروں پر دیباج تھا۔ اس روایت میں ریشمی نقش، حریر کی حدیث، سوال و جواب، اور صحابہ کی احتیاط ایک ساتھ بیان ہوئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دین کے معاملے میں شک ہو تو اہل علم سے وضاحت لی جا سکتی ہے۔
  • سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حریر کے بارے میں احتیاط اختیار کی۔
  • سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے عملی مثال کے ذریعے بات واضح کی۔
  • روایت میں بیان شدہ بات سے زیادہ حکم گھڑنے کے بجائے متن کو سمجھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں