صحیح مسلم حدیث ۵۴۰۳ - ریشمی جوڑے سے فائدہ مگر پہننا نہیں

ریشمی جوڑا پہننا نہیں، جائز فائدہ اٹھانا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۴۰۳

وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قال : رَأَى عُمَرُ عُطَارِدًا التَّمِيمِيَّ يُقِيمُ بِالسُّوقِ حُلَّةً سِيَرَاءَ ، وَكَانَ رَجُلًا يَغْشَى الْمُلُوكَ وَيُصِيبُ مِنْهُمْ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي رَأَيْتُ عُطَارِدًا يُقِيمُ فِي السُّوقِ حُلَّةً سِيَرَاءَ ، فَلَوِ اشْتَرَيْتَهَا فَلَبِسْتَهَا لِوُفُودِ الْعَرَبِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ وَأَظُنُّهُ ، قَالَ : وَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ " ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُلَلٍ سِيَرَاءَ ، فَبَعَثَ إِلَى عُمَرَ بِحُلَّةٍ وَبَعَثَ إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ بِحُلَّةٍ ، وَأَعْطَى عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ حُلَّةً ، وَقَالَ : شَقِّقْهَا خُمُرًا بَيْنَ نِسَائِكَ ، قَالَ : فَجَاءَ عُمَرُ بِحُلَّتِهِ يَحْمِلُهَا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ وَقَدْ قُلْتَ بِالْأَمْسِ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ ، فَقَالَ : " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا ، وَلَكِنِّي بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُصِيبَ بِهَا " ، وَأَمَّا أُسَامَةُ فَرَاحَ فِي حُلَّتِهِ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرًا ، عَرَفَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَنْكَرَ مَا صَنَعَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَنْظُرُ إِلَيَّ فَأَنْتَ بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَا ، فَقَالَ : " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا ، وَلَكِنِّي بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُشَقِّقَهَا خُمُرًا بَيْنَ نِسَائِكَ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عطارد تمیمی کو دیکھا بازار میں ایک ریشمی جوڑا رکھے ہوئے (بیچنے کے لیے) اور وہ ایک ایسا شخص تھا جو بادشاہوں کے پاس جایا کرتا تھا اور ان سے روپیہ حاصل کرتا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے عطارد کو دیکھا اس نے بازار میں ایک ریشمی جوڑا رکھا ہے اگر آپ اس کو خرید لیں اور جب عرب کے ایلچی آتے ہیں اس وقت پہنا کریں تو مناسب ہے۔ راوی نے کہا: میں سمجھتا ہوں انہوں نے یہ بھی کہا کہ جمعہ کو بھی آپ پہنا کریں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ریشمی کپڑا دنیا میں وہ پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔“پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چند ریشمی جوڑے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی ایک جوڑا دیا اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو ایک اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ایک اور فرمایا: ”اس کو پھاڑ کر اپنی عورتوں کی سربندھن بنا دے۔“سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنا جوڑا لے کر آئے اور عرض کرنے لگے، یا رسول اللہ! آپ نے یہ جوڑا مجھے بھیجا اور کل ہی آپ نے عطارد کے جوڑے کے باب میں کیا فرمایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہ جوڑا تمہارے پاس پہننے کے لیے نہیں بلکہ اس لیے بھیجا کہ اس سے فائدہ حاصل کرو (اس کو بیچ کر)“ اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے اپنا جوڑا پہن لیا اور چلے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایسی نگاہ سے دیکھا کہ ان کو معلوم ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہیں۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کیا دیکھتے ہیں؟ آپ! ہی نے تو یہ جوڑا مجھے بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اس لیے نہیں بھیجا کہ تو خود پہنے بلکہ اس لیے بھیجا کہ پھاڑ کر اپنی عورتوں کے سربندھن بنا دے۔“

صحیح مسلم حدیث ۵۴۰۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں ریشمی جوڑے کے بارے میں کئی باتیں ایک ساتھ سمجھ آتی ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عطارد کے پاس ریشمی جوڑا دیکھا اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے عرض کیا کہ آپ اسے وفود یا جمعہ کے موقع پر پہن لیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ریشم دنیا میں وہ پہنتا ہے جس کا آخرت میں حصہ نہیں۔ بعد میں جب ریشمی جوڑے آئے تو سیدنا عمر، سیدنا اسامہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہم کو دیے گئے۔ مگر آپ صلى الله عليه وسلم نے واضح کیا کہ یہ پہننے کے لیے نہیں، بلکہ فائدہ اٹھانے کے لیے ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو عورتوں کے سربند بنانے کا حکم دیا گیا۔ اس سے ریشمی لباس کی حدیث میں پہننے اور دوسرے استعمال کا فرق صاف ہو جاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ریشمی کپڑے کو خود پہننا اور اس سے فائدہ اٹھانا ایک ہی حکم نہیں رکھتے۔
  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے غلط فہمی باقی نہیں رہنے دی بلکہ صاف وضاحت فرمائی۔
  • صحابہ کرام حکم سن کر فوراً اپنی حالت درست کرتے تھے۔
  • کپڑے کے استعمال میں بھی شریعت کی رہنمائی کو دیکھا جاتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں