صحیح مسلم حدیث ۵۴۰۲ - حریر پہننے سے احتیاط
حریر پہننے کی حدیث: دین میں احتیاط کا سبق
صحیح مسلم : ۵۴۰۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۴۰۲
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ كِلَاهُمَا ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مَالِكٍ .
ترجمہ وہی جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۴۰۲ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے مفہوم کو دوسرے طریق سند سے بیان کرتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ریشمی جوڑا دیکھ کر اسے خاص مواقع کے لیے پہننے کی تجویز دی گئی، مگر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے حریر پہننے کے بارے میں سخت بات فرمائی۔ پھر جب ایسا جوڑا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیا گیا تو انہوں نے سمجھا کہ شاید پہننے کی اجازت ہے، مگر آپ صلى الله عليه وسلم نے واضح کر دیا کہ یہ پہننے کے لیے نہیں۔ اس سے عام فہم سبق یہ ہے کہ حدیث کا مطلب سمجھنے کے لیے صرف ظاہری صورت نہ دیکھی جائے بلکہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی وضاحت کو دیکھا جائے۔ ریشمی لباس، حریر کی حدیث، اور آخرت کی فکر اس روایت کا مرکزی پیغام ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث کا مفہوم سمجھنے کے لیے نبی صلى الله عليه وسلم کی وضاحت کو اصل ماننا چاہیے۔
- حریر ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے پہننا بھی درست ہو۔
- سوال کر کے دین کی بات سمجھنا صحابہ کرام کا طریقہ تھا۔
- لباس کے انتخاب میں آخرت کی فکر شامل رہنی چاہیے۔
