صحیح مسلم حدیث ۵۵۶ - وضو کی روایت میں لفظی فرق
وضو کے بیان میں ٹخنوں کے لفظ کا فرق
صحیح مسلم : ۵۵۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۶
وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ هُوَ ابْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ : الْكَعْبَيْنِ .
اس سند سے یہ روایت بھی منقول ہے مگر اس میں یہ لفظ نہیں (ٹخنوں تک)۔
صحیح مسلم حدیث ۵۵۶ کا خلاصہ
یہ حدیث اصل میں پچھلی وضو والی روایت ہی کے دوسرے طریق کا بیان ہے۔ متن میں بتایا گیا ہے کہ اسی سند سے یہ روایت بھی نقل ہوئی، مگر اس میں ٹخنوں تک کے الفاظ نہیں آئے۔ اس روایت کا مقصد کوئی الگ مکمل وضو کا طریقہ بیان کرنا نہیں، بلکہ روایت کے الفاظ کا فرق بتانا ہے۔ حدیث پڑھتے وقت یہ بات اہم ہوتی ہے کہ ایک ہی واقعہ یا عمل مختلف سندوں سے آئے تو بعض الفاظ کم یا زیادہ ہو سکتے ہیں۔ یہاں وضو کی حدیث میں اصل مضمون وہی ہے، مگر اس خاص نقل میں ایک لفظی فرق بتایا گیا ہے۔ اس لیے اس روایت سے سیکھنے والی بات یہ ہے کہ حدیث کے الفاظ کو دھیان سے پڑھا جائے اور جو لفظ موجود ہو، اسی کے مطابق بات کی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث کے الفاظ میں موجود فرق کو دھیان سے نوٹ کرنا چاہیے۔
- اس روایت میں وضو کے بیان کا دوسرا طریق نقل ہوا ہے۔
- جو لفظ روایت میں موجود نہ ہو، اسے اس خاص متن کا حصہ نہیں کہنا چاہیے۔
