صحیح مسلم حدیث ۵۵۶۰ - قزع کی ممانعت کی تائیدی روایت
قزع سے منع کرنے والی حدیث: بالوں کے انداز میں احتیاط
صحیح مسلم : ۵۵۶۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۶۰
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا أبى قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَجَعَلَ التَّفْسِيرَ فِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ مِنْ قَوْلِ عُبَيْدِ اللَّهِ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۵۶۰ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے همان مضمون کو بیان کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قزع سے منع فرمایا۔ قزع کی وضاحت میں یہ بات آئی کہ بچے کے سر کا کچھ حصہ مونڈ دیا جائے اور کچھ حصہ چھوڑ دیا جائے۔ اس روایت میں وضاحت کے راوی سے متعلق فرق کا ذکر ہے، مگر عام قاری کے لیے اصل پیغام واضح ہے: بالوں کا ایسا انداز جس میں سر کے کچھ حصے کو مونڈ کر کچھ چھوڑ دیا جائے، حدیث میں منع آیا ہے۔ قزع کی حدیث خاص طور پر والدین، حجام اور نوجوانوں کے لیے اہم یاد دہانی ہے۔ بالوں کا انداز بناتے وقت صرف رواج یا پسند نہیں، بلکہ نبوی ہدایت بھی سامنے رکھنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قزع سے ممانعت کا مضمون دوبارہ روایت ہوا ہے۔
- قزع کا مطلب سر کا کچھ حصہ مونڈنا اور کچھ چھوڑنا ہے۔
- بالوں کے انداز میں دینی حد کا خیال رکھنا چاہیے۔
- والدین بچوں کے بال بنواتے وقت اس حدیث کو یاد رکھیں۔
