صحیح مسلم حدیث ۵۵۸۴ - سوکن کے سامنے جھوٹا فخر
جھوٹا فخر کی حدیث: جو نہ ملا اسے ملا ہوا ظاہر نہ کریں
صحیح مسلم : ۵۵۸۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۸۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنَّ لِي ضَرَّةً ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ أَتَشَبَّعَ مِنْ مَالِ زَوْجِي بِمَا لَمْ يُعْطِنِي ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ " .
اسماء روایت:
ایک عورت آئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس، اور کہنے لگی: میری ایک سوت ہے تو کیا مجھ کو گناہ ہو گا اگر میں (اس کے دل جلانے کو) یہ کہوں کہ خاوند نے مجھے یہ دیا ہے جو اس نے نہیں دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو کوئی چیز نہ ملی اور وہ ملی ہے بیان کرے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے فریب کے دو کپڑے پہن لیے (اور اپنے تئیں زاہد متقی بتلایا حالانکہ اصل میں دنیادار فریبی ہے «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاﷲِ»)۔
صحیح مسلم حدیث ۵۵۸۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ اس نے کہا کہ میری ایک سوکن ہے، کیا مجھ پر گناہ ہوگا اگر میں یہ ظاہر کروں کہ میرے خاوند نے مجھے وہ چیز دی ہے جو اس نے نہیں دی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کو کوئی چیز نہ ملی ہو اور وہ اسے ملی ہوئی بیان کرے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے فریب کے دو کپڑے پہن لیے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع جھوٹا فخر ہے۔ کبھی انسان کسی کو جلانے، نیچا دکھانے یا اپنی حیثیت بڑھانے کے لیے ایسی بات کہہ دیتا ہے جو سچ نہیں ہوتی۔ یہ حدیث صاف بتاتی ہے کہ ایسی بات فریب ہے۔ رشتوں میں سچائی، سکون اور عزت کا سبب بنتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سوکن یا کسی اور کے سامنے جھوٹا فخر کرنا درست نہیں۔
- جو چیز حقیقت میں نہ ملی ہو اسے ملی ہوئی کہنا فریب ہے۔
- رشتوں میں مقابلہ اور جلانے والی باتوں سے بچنا چاہیے۔
