صحیح مسلم حدیث ۵۵۸۳ - جھوٹا دعویٰ اور فریب کے دو کپڑے

جھوٹا دعویٰ کی حدیث: فریب کے دو کپڑے پہننے کا مطلب

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۸۳

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً ، قالت : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقُولُ إِنَّ زَوْجِي أَعْطَانِي مَا لَمْ يُعْطِنِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ " .

عائشہ روایت:

ایک عورت نے عرض کیا، یا رسول اللہ! میں (سوت سے) کہوں کہ خاوند نے مجھے وہ دیا جو اس نے نہیں دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کہے فلاں چیز میرے پاس ہے (لوگوں میں اپنی بڑائی ظاہر کرنے کو غرور سے) اور وہ اس کے پاس نہ ہو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی فریب کے دو کپڑے پہن لے۔“

صحیح مسلم حدیث ۵۵۸۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایک عورت کا سوال بیان کرتی ہیں۔ عورت نے پوچھا کہ کیا وہ یہ کہہ سکتی ہے کہ اس کے خاوند نے اسے وہ چیز دی ہے جو اصل میں نہیں دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں ایک بہت صاف مثال دی کہ جو شخص اپنے پاس ایسی چیز ظاہر کرے جو اسے ملی نہ ہو، وہ ایسے ہے جیسے فریب کے دو کپڑے پہن لے۔ اس حدیث کا اصل موضوع جھوٹا دعویٰ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دوسروں کے سامنے اپنی بڑائی کے لیے جھوٹی بات بنانا درست نہیں۔ گھر، رشتہ، مال یا تحفے کے بارے میں ایسی بات کہنا جو حقیقت نہ ہو، انسان کو دھوکے کے قریب لے جاتا ہے۔ سچ بولنا ہی عزت والا راستہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جو چیز نہ ملی ہو اسے ملی ہوئی ظاہر کرنا جھوٹا دعویٰ ہے۔
  • دوسروں کے سامنے بڑائی کے لیے جھوٹ بولنا دھوکے کی صورت ہے۔
  • سچائی رشتوں اور بات چیت میں صاف پن پیدا کرتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں