صحیح مسلم حدیث ۵۵۸۱ - جھوٹی زینت اور بال بڑھانے کی ممانعت
جھوٹی زینت کی حدیث: بالوں میں بناوٹ سے بچنے کا حکم
صحیح مسلم : ۵۵۸۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۸۱
وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قالا : أَخْبَرَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ ، قال : ذَاتَ يَوْمٍ إِنَّكُمْ قَدْ أَحْدَثْتُمْ زِيَّ سَوْءٍ ، " وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الزُّورِ " ، قَالَ : وَجَاءَ رَجُلٌ بِعَصًا عَلَى رَأْسِهَا خِرْقَةٌ ، قَالَ مُعَاوِيَةُ : أَلَا وَهَذَا الزُّورُ ، قَالَ قَتَادَةُ : يَعْنِي مَا يُكَثِّرُ بِهِ النِّسَاءُ أَشْعَارَهُنَّ مِنَ الْخِرَقِ .
سعید بن المسیب روایت:
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک دن کہا: تم لوگوں نے بری بات نکالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا زور سے۔ ایک شخص آیا ایک لکڑی لے کر، اس کی نوک پر چیتھڑا لگا تھا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ زور ہے۔ قتادہ نے کہا: مراد یہ ہے کہ عورتیں چیتھڑے لگا کر اپنے بال بہت کر لیتی ہیں۔
صحیح مسلم حدیث ۵۵۸۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع جھوٹی زینت ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو ایک نئی بری وضع پر متوجہ کیا اور بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زور، یعنی دھوکے والی بناوٹ سے منع فرمایا۔ حدیث کے آخر میں قتادہ رحمہ اللہ نے وضاحت کی کہ اس سے مراد وہ چیتھڑے ہیں جنہیں عورتیں بال زیادہ دکھانے کے لیے لگاتی تھیں۔ اس سے صاف بات سمجھ آتی ہے کہ اسلام میں ظاہری بناوٹ ایسی نہیں ہونی چاہیے جو اصل حقیقت کو بدل کر دکھائے۔ بالوں کی زینت، لباس یا کوئی بھی انداز اگر دھوکا بن جائے تو وہ پسندیدہ نہیں۔ یہ حدیث ہمیں سادگی، سچائی اور بناوٹ سے بچنے کی طرف بلاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زینت میں دھوکا اور جھوٹی بناوٹ سے بچنا چاہیے۔
- بالوں کو مصنوعی طور پر زیادہ دکھانا اس روایت میں ناپسند بتایا گیا ہے۔
- مسلمان کو ظاہر میں بھی سچائی اور سادگی کا خیال رکھنا چاہیے۔
