صحیح مسلم حدیث ۵۵۸۲ - لباس، حیا اور ظلم سے بچنے کی تنبیہ
لباس اور حیا کی حدیث: کاسیات عاریات کا مطلب
صحیح مسلم : ۵۵۸۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۸۲
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، لَمْ أَرَهُمَا قَوْمٌ مَعَهُمْ سِيَاطٌ كَأَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ ، وَنِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مُمِيلَاتٌ مَائِلَاتٌ ، رُءُوسُهُنَّ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ ، لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ كَذَا وَكَذَا " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو قسمیں ہیں دوزخیوں کی جن کو میں نے نہیں دیکھا: ایک تو وہ لوگ جن کے پاس کوڑے ہیں بیلوں کی دموں کی طرح کے لوگوں کو اس سے مارتے ہیں۔ دوسرے وہ عورتیں ہیں جو پہنتی ہیں مگر ننگی ہیں (یعنی ستر کے لائق اعضا کھلے ہیں ایسے باریک ہوتے ہیں جن میں سے بدن نظر آتا ہے تو گویا ننگی ہیں) سیدھی راہ سے بہکانے والی، خود بہکنے والی، ان کے سر بختی (ایک قسم ہے اونٹ کی) اونٹ کی کوہان کی طرح ایک طرف جھکے ہوئے ہیں وہ جنت میں نہ جائیں گی بلکہ اس کی خوشبو بھی ان کو نہ ملے گی حالانکہ جنت کی خوشبو اتنی دور سے آتی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۵۵۸۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کے لوگوں کا ذکر فرمایا جنہیں آپ نے اپنے زمانے میں نہیں دیکھا تھا۔ ایک وہ لوگ جن کے پاس بیلوں کی دم جیسے کوڑے ہوں گے اور وہ لوگوں کو ماریں گے۔ دوسری وہ عورتیں جو لباس پہننے کے باوجود گویا ننگی ہوں گی، دوسروں کو بھی بہکانے والی اور خود بھی راہ سے ہٹنے والی ہوں گی۔ حدیث میں ان کے سروں کو بختی اونٹ کی جھکی ہوئی کوہان سے تشبیہ دی گئی۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام حیا، مناسب لباس اور ظلم سے بچنا ہے۔ یہاں لباس کی حدیث صرف کپڑے کا ذکر نہیں کرتی، بلکہ انداز، چال اور دوسروں پر اثر کا بھی ذکر کرتی ہے۔ مسلمان کے لیے بدن ڈھانپنا، وقار رکھنا اور کسی پر ظلم نہ کرنا بہت ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لوگوں کو کوڑوں سے مارنا سخت ناپسندیدہ عمل بتایا گیا ہے۔
- لباس ایسا ہونا چاہیے جو ستر اور حیا کے مقصد کو پورا کرے۔
- اپنے انداز سے دوسروں کو گمراہی کی طرف لے جانا خطرناک بات ہے۔
