صحیح مسلم حدیث ۵۶۰ - استجمار طاق اور ناک میں پانی

استجمار میں طاق عدد اور وضو میں ناک صاف کرنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۰

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ جميعا ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَسْتَجْمِرْ وِتْرًا ، وَإِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ ، فَلِيَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ مَاءً ، ثُمَّ لِيَنْتَثِرْ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی تم سے پائخانہ کی جگہ ڈھیلوں سے صاف کرے تو طاق ڈھیلوں سے صاف کرے اور جب کوئی تم میں سے وضو کرے تو ناک میں پانی ڈالے پھر ناک چھینکے۔“

صحیح مسلم حدیث ۵۶۰ کا خلاصہ

یہ حدیث طہارت کے دو عملی احکام بیان کرتی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پائخانہ کی جگہ ڈھیلوں سے صاف کرے تو طاق ڈھیلوں سے صاف کرے، اور جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو ناک میں پانی ڈالے، پھر ناک جھاڑے۔ اس روایت میں استجمار اور وضو دونوں کا ذکر ہے۔ استجمار کا مطلب یہاں ڈھیلوں سے صفائی ہے، اور متن میں طاق عدد کا حکم آیا ہے۔ وضو کے بارے میں ناک میں پانی ڈالنے اور پھر اسے جھاڑنے کا بیان ہے۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ طہارت میں چھوٹے عملی کام بھی اہم ہیں، کیونکہ نماز سے پہلے پاکی کی بنیاد انہی باتوں سے بنتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • استجمار میں طاق عدد کا حکم بیان ہوا ہے۔
  • وضو میں ناک میں پانی ڈال کر ناک جھاڑنے کا ذکر آیا ہے۔
  • طہارت کے چھوٹے عملی آداب کو بھی اہم سمجھنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں