صحیح مسلم حدیث ۵۶۱ - وضو میں ناک صاف کرنے کا طریقہ
وضو میں ناک صاف کرنے کی حدیث اور اس کا آسان مطلب
صحیح مسلم : ۵۶۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۱
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَسْتَنْشِقْ بِمَنْخِرَيْهِ مِنَ الْمَاءِ ، ثُمَّ لِيَنْتَثِرْ " .
ہمام بن منبہ روایت:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یہ حدیثیں ہم سے بیان کیں، پھر انہوں نے ذکر کیا کئی حدیثوں کو، ایک ان میں سے یہ بھی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جب کوئی تم میں سے وضو کرے تو دونوں نتھنوں کو صاف کرے پانی سے پھر ناک چھینکے۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۶۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کے ایک صاف اور واضح ادب کی تعلیم دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو دونوں نتھنوں میں پانی ڈالے، پھر ناک کو اچھی طرح صاف کرے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وضو صرف چہرہ، ہاتھ اور پاؤں دھونے کا نام نہیں، بلکہ ناک کی صفائی بھی وضو کے عمل میں شامل ہے۔ وضو میں ناک صاف کرنے کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ عبادت سے پہلے ظاہری صفائی کا خیال رکھا جائے۔ یہ عمل سادہ ہے، مگر اس میں پاکیزگی، احتیاط اور سنت کی پیروی کا سبق ہے۔ مسلمان جب وضو کرتا ہے تو اسے جلد بازی کے بجائے ہر حصے کو دھیان سے ادا کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وضو کرتے وقت ناک میں پانی ڈالنا اور اسے صاف کرنا نبوی ہدایت ہے۔
- وضو میں ظاہری صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔
- عبادت سے پہلے صفائی کے چھوٹے اعمال کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
- وضو میں جلدی کے بجائے ہر عمل کو دھیان سے ادا کرنا چاہیے۔
