صحیح مسلم حدیث ۵۶۲ - وضو میں ناک اور استنجاء میں طاق عدد

وضو میں ناک صاف کرنا اور استنجاء میں طاق بار کرنا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۲

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ " .

سیدنا ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص وضو کرے تو ناک میں پانی ڈالے اور جو شخص استنجاء کرے تو طاق بار کرے۔“

صحیح مسلم حدیث ۵۶۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں دو صاف ہدایات بیان ہوئی ہیں۔ پہلی یہ کہ جو شخص وضو کرے وہ ناک میں پانی ڈال کر اسے صاف کرے۔ دوسری یہ کہ جو شخص استنجاء کرے وہ طاق بار کرے۔ استنجاء میں طاق بار کرنے کی حدیث ہمیں صفائی کے عمل میں ترتیب اور احتیاط سکھاتی ہے۔ یہاں بات بہت سادہ ہے: وضو میں ناک کی صفائی کو اہم سمجھا گیا، اور استنجاء میں طاق عدد کا ذکر کیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین نے پاکیزگی کے معاملے کو معمولی نہیں چھوڑا۔ مسلمان کو چاہیے کہ طہارت کے کاموں میں بے پروائی نہ کرے، کیونکہ نماز اور عبادت سے پہلے صفائی کا اہتمام بہت ضروری ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • وضو میں ناک صاف کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت ہے۔
  • استنجاء کرتے وقت طاق عدد اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔
  • طہارت کے عمل میں ترتیب اور احتیاط پسندیدہ ہے۔
  • صفائی کے چھوٹے امور بھی دین میں اہمیت رکھتے ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں