صحیح مسلم حدیث ۵۶۵ - استنجاء میں طاق عدد کا حکم
استنجاء میں طاق بار کرنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۵۶۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۵
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيُوتِرْ " .
سیدنا جابر بن عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی تم میں سے استنجاء کرے تو طاق بار کرے۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۶۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی استنجاء کرے تو طاق بار کرے۔ استنجاء میں طاق بار کرنے کی حدیث کا مطلب یہ ہے کہ صفائی کے اس عمل میں طاق عدد کا خیال رکھا جائے۔ حدیث میں لمبی تفصیل نہیں، بلکہ ایک مختصر اور واضح ہدایت ہے۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ طہارت کے معاملے میں مسلمان کو لاپروا نہیں ہونا چاہیے۔ استنجاء، وضو اور پاکیزگی نماز سے پہلے کی تیاری کا حصہ ہیں، اس لیے ان میں سنت کے مطابق احتیاط مناسب ہے۔ یہ حدیث صفائی کے عمل کو منظم انداز میں کرنے کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- استنجاء کرتے وقت طاق بار کرنے کی نبوی ہدایت موجود ہے۔
- طہارت کے عمل میں بے دھیانی سے بچنا چاہیے۔
- صفائی کے کام میں سنت کے الفاظ کو اہم سمجھنا چاہیے۔
- مختصر حدیث بھی عملی زندگی کے لیے واضح رہنمائی دیتی ہے۔
