صحیح مسلم حدیث ۵۶۴ - نیند سے اٹھ کر ناک صاف کرنے کی حدیث
نیند سے اٹھ کر ناک صاف کرنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۵۶۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۴
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ ، فَلْيَسْتَنْثِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَبِيتُ عَلَى خَيَاشِيمِهِ " .
سیدنا ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی جاگے تو ناک چھنکے تین بار اس لئے کہ شیطان اس کے بانسے پر رہتا ہے یا ناک میں۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۶۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیند سے اٹھنے کے بعد ناک صاف کرنے کی ہدایت دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو تین بار ناک جھاڑے، کیونکہ شیطان اس کے ناک کے اندر یا بانسے پر رات گزارتا ہے۔ نیند سے اٹھ کر ناک صاف کرنے کی حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ صبح یا بیداری کے وقت صفائی کا خاص خیال رکھا جائے۔ حدیث کے الفاظ میں تین بار کا ذکر آیا ہے، اس لیے اس عمل کو دھیان سے کرنا چاہیے۔ یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ مسلمان کی روزمرہ زندگی میں صفائی صرف عادت نہیں بلکہ سنت سے جڑی ہوئی بات ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیند سے اٹھنے کے بعد تین بار ناک صاف کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔
- صبح کی صفائی میں ناک کی صفائی کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
- حدیث کے بیان کردہ عدد یعنی تین بار کا خیال رکھنا چاہیے۔
- مسلمان کی روزمرہ صفائی بھی سنت کی پیروی بن سکتی ہے۔
