صحیح مسلم حدیث ۵۷۷ - وضو سے گناہوں کا نکلنا

وضو سے گناہوں کے نکلنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۷۷

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ ، أَوِ الْمُؤْمِنُ ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ ، خَرَجَ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَاءِ ، أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ ، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَ مِنْ يَدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ ، كَانَ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَاءِ ، أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ ، فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ ، خَرَجَتْ كُلُّ خَطِيئَةٍ مَشَتْهَا رِجْلَاهُ مَعَ الْمَاءِ ، أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاء ، حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوبِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بندہ مسلمان یا مؤمن (یہ شک ہے راوی کا) وضو کرتا ہے اور منہ دھوتا ہے تو اس کے منہ سے وہ سب گناہ (صغیرہ) نکل جاتے ہیں جو اس نے آنکھوں سے کئے پانی کے ساتھ یا آخری قطرہ کے ساتھ (جو منہ سے گرتا ہے یہ بھی شک ہے راوی کا) پھر جب ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں میں سے ہر ایک گناہ جو ہاتھ سے کیا تھا، پانی کے ساتھ یا آخری قطرہ کے ساتھ نکل جاتا ہے پھر جب پاؤں دھوتا ہے تو ہر ایک گناہ جس کو اس نے پاؤں سے چل کر کیا تھا۔ پانی کے ساتھ یا آخری قطرہ کے ساتھ نکل جاتا ہے یہاں تک کہ سب گناہوں سے پاک صاف ہو کر نکلتا ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۵۷۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کی ایک بڑی فضیلت بیان فرمائی۔ جب مسلمان یا مؤمن وضو کرتے ہوئے چہرہ دھوتا ہے تو آنکھوں سے کیے گئے گناہ پانی کے ساتھ یا آخری قطرے کے ساتھ نکل جاتے ہیں۔ جب ہاتھ دھوتا ہے تو ہاتھوں سے کیے گئے گناہ نکل جاتے ہیں۔ جب پاؤں دھوتا ہے تو ان گناہوں کا نکلنا بیان ہوا جن کی طرف پاؤں چل کر گئے تھے۔ وضو سے گناہوں کے نکلنے کی حدیث مسلمان کو وضو کی قدر سمجھاتی ہے۔ یہاں راوی کے شک کو بھی اسی طرح نقل کیا گیا ہے، اس لیے الفاظ میں احتیاط رکھی گئی ہے۔ یہ حدیث وضو کو صرف جسمانی صفائی نہیں بلکہ روحانی پاکیزگی کا ذریعہ بھی بتاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • وضو گناہوں سے پاکیزگی کا ذریعہ بن سکتا ہے جیسا کہ حدیث میں بیان ہوا۔
  • چہرہ، ہاتھ اور پاؤں دھوتے وقت انسان کو اپنے اعمال یاد کرنے چاہییں۔
  • وضو کو معمولی عادت نہیں بلکہ عبادت کی تیاری سمجھنا چاہیے۔
  • حدیث کے الفاظ میں راوی کا شک بھی امانت سے نقل کیا گیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں