صحیح مسلم حدیث ۵۷۶ - ناخن برابر جگہ خشک رہ جائے تو وضو

وضو میں ناخن برابر جگہ خشک رہ جائے تو کیا سبق ہے؟

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۷۶

حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، " أَنَّ رَجُلًا تَوَضَّأَ ، فَتَرَكَ مَوْضِعَ ظُفُرٍ عَلَى قَدَمِهِ ، أَبْصَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ ، فَرَجَعَ ، ثُمَّ صَلَّى " .

عمر روایت:

ایک شخص نے وضو کیا اور ناخن برابر اپنے پاؤں میں سوکھا چھوڑ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو فرمایا: ”جا اور اچھی طرح وضو کر کے آ۔“ وہ لوٹ گیا پھر آ کر نماز پڑھی۔

صحیح مسلم حدیث ۵۷۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بیان کے مطابق ایک شخص نے وضو کیا مگر پاؤں پر ناخن برابر جگہ خشک چھوڑ دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو فرمایا کہ واپس جاؤ اور اچھی طرح وضو کر کے آؤ۔ وہ شخص واپس گیا، پھر آ کر نماز پڑھی۔ وضو میں خشک جگہ رہ جانے کی حدیث بہت صاف سبق دیتی ہے کہ وضو میں معمولی کمی کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ یہاں پاؤں کا بہت چھوٹا حصہ رہ گیا تھا، پھر بھی اصلاح کی گئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وضو میں پانی متعلقہ اعضا تک پہنچانا ضروری ہے۔ نماز سے پہلے وضو کو درست کرنا مسلمان کی ذمہ داری ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • وضو میں چھوٹی خشک جگہ بھی نظر انداز نہیں کرنی چاہیے۔
  • کمی معلوم ہو جائے تو وضو درست کر کے نماز پڑھنی چاہیے۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی طور پر وضو کی اصلاح فرمائی۔
  • پاؤں دھوتے وقت ہر حصے تک پانی پہنچانا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں