صحیح مسلم حدیث ۵۷۲ - پاؤں پر مسح نہیں، مکمل دھونا
وضو میں پاؤں کو مکمل دھونے کی حدیث
صحیح مسلم : ۵۷۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۷۲
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ جَمِيعًا ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، قَالَ أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : " تَخَلَّفَ عَنَّا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ سَافَرْنَاهُ ، فَأَدْرَكَنَا وَقَدْ حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ ، فَجَعَلْنَا نَمْسَحُ عَلَى أَرْجُلِنَا ، فَنَادَى : وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جس نے (وضو میں) اپنی ایڑی نہیں دھوئی تھی، تو فرمایا: ”خرابی ہے ایڑیوں کی جہنم کی آگ سے۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۷۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں بیان ہوا کہ سفر کے دوران نماز عصر کا وقت آیا تو لوگ وضو کرنے لگے اور پاؤں پر مسح کرنے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے فرمایا کہ ایڑیوں کے لیے آگ سے خرابی ہے۔ وضو میں پاؤں دھونے کی حدیث کا پیغام بہت واضح ہے: پاؤں اور ایڑیوں کو وضو میں اچھی طرح دھونا چاہیے۔ یہاں اصل توجہ اس بات پر ہے کہ وضو کے فرض حصے کو ادھورا نہ چھوڑا جائے۔ جب پاؤں دھوئے جائیں تو پانی ایڑیوں تک پہنچے۔ مسلمان کو چاہیے کہ وضو کرتے ہوئے صرف ظاہری جلدی نہ کرے بلکہ دھیان سے دیکھے کہ کوئی حصہ خشک تو نہیں رہ گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وضو میں پاؤں اور ایڑیوں کو اچھی طرح دھونا چاہیے۔
- جلد بازی میں پاؤں کا کوئی حصہ خشک رہ سکتا ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایڑیوں کی کمی پر سخت تنبیہ فرمائی۔
- وضو میں ہر متعلقہ حصے تک پانی پہنچانا ضروری ہے۔
