صحیح مسلم حدیث ۵۶۶ - ایڑیوں کو اچھی طرح دھونے کی حدیث
وضو میں ایڑیوں کو اچھی طرح دھونا کیوں ضروری ہے؟
صحیح مسلم : ۵۶۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۶
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، وَأَبُو الطَّاهِرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالُوا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَالِمٍ مَوْلَى شَدَّادٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَوْمَ تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ، فَدَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، فَتَوَضَّأَ عِنْدَهَا ، فَقَالَتْ : يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، أَسْبِغْ الْوُضُوءَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ " .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما گئے، جس دن سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے انتقال کیا تو انہوں نے وضو کیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے عبدالرحمٰن! وضو پورا کرو۔ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”خرابی ہے ایڑیوں والوں کے لئے جہنم کی آگ سے۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۶۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو وضو پورا کرنے کی نصیحت کی۔ پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنایا کہ ایڑیوں کے لیے آگ سے خرابی ہے۔ وضو میں ایڑیوں کو دھونے کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ وضو ادھورا نہیں کرنا چاہیے۔ خاص طور پر پاؤں اور ایڑیاں کبھی خشک رہ جاتی ہیں، اس لیے ان پر پانی پہنچانا ضروری ہے۔ اس روایت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا انداز بھی قابل توجہ ہے کہ انہوں نے وضو دیکھ کر فوراً اصلاح کی۔ مسلمان کو چاہیے کہ وضو میں جلدی نہ کرے اور ہر عضو کو اچھی طرح دھوئے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وضو میں ایڑیوں کو خشک چھوڑنا سخت تنبیہ کا سبب بتایا گیا ہے۔
- کسی کو وضو میں کمی کرتے دیکھ کر نرمی سے اصلاح کی جا سکتی ہے۔
- وضو مکمل کرنا نماز کی تیاری کا اہم حصہ ہے۔
- پاؤں دھوتے وقت ایڑیوں پر خاص توجہ دینی چاہیے۔
