صحیح مسلم حدیث ۵۷۵ - ایڑیوں کو خشک نہ چھوڑو
وضو میں ایڑیوں کو خشک نہ چھوڑنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۵۷۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۷۵
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خرابی ہے ایڑیوں کی آگ سے۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۷۵ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل ہوا ہے کہ ایڑیوں کے لیے آگ سے خرابی ہے۔ وضو میں ایڑیوں کو خشک نہ چھوڑنے کی حدیث بار بار اسی بات کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ پاؤں کو مکمل دھونا چاہیے۔ ایڑی پاؤں کا ایسا حصہ ہے جہاں جلدی میں پانی کم پہنچتا ہے۔ اگر وضو کرنے والا دھیان نہ دے تو یہ حصہ خشک رہ سکتا ہے۔ اسی لیے حدیث میں سخت الفاظ کے ساتھ تنبیہ آئی۔ مسلمان کو چاہیے کہ وضو کرتے وقت پاؤں دھونے کے بعد دیکھ لے کہ ایڑیوں تک پانی پہنچ گیا ہے یا نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پاؤں دھوتے وقت ایڑیوں پر خاص توجہ دینی چاہیے۔
- وضو میں کسی حصے کو خشک چھوڑنے سے بچنا چاہیے۔
- حدیث کی تنبیہ انسان کو وضو میں سنجیدہ بناتی ہے۔
- وضو جلدی میں نہیں بلکہ اطمینان سے کرنا چاہیے۔
