صحیح مسلم حدیث ۵۷۴ - ایڑیوں کے لیے آگ سے تنبیہ

ایڑیوں کے لیے آگ سے خرابی: وضو کی اہم حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۷۴

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّهُ رَأَى قَوْمًا يَتَوَضَّئُونَ مِنَ الْمِطْهَرَةِ ، فَقَالَ : أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : وَيْلٌ لِلْعَرَاقِيبِ مِنَ النَّارِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خرابی ہے ایڑیوں کی آگ سے۔“

صحیح مسلم حدیث ۵۷۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایڑیوں کے لیے آگ سے خرابی ہے۔ الفاظ مختصر ہیں مگر بات بہت واضح ہے۔ ایڑیوں کے لیے آگ کی حدیث وضو میں پاؤں کو مکمل دھونے کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ وضو کرتے وقت انسان بعض اوقات پاؤں کا پچھلا حصہ یا ایڑی جلدی میں چھوڑ دیتا ہے۔ حدیث اس بے احتیاطی پر سخت تنبیہ کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وضو میں صرف ظاہری طور پر پانی لگا لینا کافی نہیں، بلکہ ہر متعلقہ حصے تک پانی پہنچانا چاہیے۔ مسلمان کو وضو سکون اور توجہ کے ساتھ کرنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • وضو میں ایڑیوں کو خشک چھوڑنا سخت تنبیہ کا سبب ہے۔
  • پاؤں دھوتے وقت پچھلے حصے پر بھی پانی پہنچانا چاہیے۔
  • مختصر حدیث بھی اہم عملی حکم سمجھا سکتی ہے۔
  • وضو میں دھیان اور احتیاط ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں