صحیح مسلم حدیث ۵۶۰۰ - رباح، یسار، افلح اور نافع نام نہ رکھو

منع ناموں کی حدیث: رباح، یسار، افلح اور نافع

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۰۰

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، قال : قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُسَمِّ غُلَامَكَ رَبَاحًا وَلَا يَسَارًا وَلَا أَفْلَحَ وَلَا نَافِعًا " .

سمرہ بن جندب روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت نام رکھ اپنے غلام کا رباح اور یسار اور نہ افلح اور نہ نافع۔“

صحیح مسلم حدیث ۵۶۰۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے غلام کا نام رباح نہ رکھو، نہ یسار، نہ افلح، اور نہ نافع۔ یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کو مزید سیدھے الفاظ میں بیان کرتی ہے۔ اس میں چار نام خاص طور پر گنوائے گئے ہیں۔ حدیث کا مرکزی موضوع نام رکھنے کی ممانعت ہے۔ چونکہ متن میں غلام کا ذکر آیا ہے، اس لیے بات اسی دائرے میں رکھی جانی چاہیے۔ نام انسان کی پہچان بنتا ہے، اس لیے نام کے انتخاب میں دینی رہنمائی کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اس حدیث سے کم از کم اتنی بات صاف ہے کہ ان چار ناموں سے بچنے کی ہدایت دی گئی ہے، خاص طور پر غلام کے نام کے بارے میں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رباح، یسار، افلح اور نافع نام غلام کے لیے نہ رکھنے کا حکم آیا ہے۔
  • نام منتخب کرتے وقت حدیث میں آئی ہدایت کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • مختصر حدیث بھی نام رکھنے کے بارے میں واضح رہنمائی دیتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں