صحیح مسلم حدیث ۵۵۹۹ - غلاموں کے چار نام رکھنے کی ممانعت

غلاموں کے نام رکھنے کی حدیث: افلح، رباح، یسار اور نافع

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۹۹

حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ الرُّكَيْنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، وقَالَ يَحْيَي : أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قال : سَمِعْتُ الرُّكَيْنَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، قال : " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُسَمِّيَ رَقِيقَنَا بِأَرْبَعَةِ أَسْمَاءٍ ، أَفْلَحَ ، وَرَبَاح ، وَيَسَارٍ ، وَنَافِعٍ " .

سمرہ بن جندب روایت:

منع کیا ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے غلاموں کے چار نام رکھنے سے افلح، رباح، یسار اور نافع۔

صحیح مسلم حدیث ۵۵۹۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے غلاموں کے چار نام رکھنے سے منع فرمایا: افلح، رباح، یسار اور نافع۔ حدیث کے الفاظ مختصر ہیں، اس لیے ہمیں بھی اسی حد تک بات کرنی چاہیے جو متن میں آئی ہے۔ اصل موضوع نام رکھنے کی ممانعت ہے۔ یہاں خاص طور پر غلاموں کے ناموں کا ذکر ہے اور چار نام صاف صاف بیان کیے گئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں نام کا معاملہ معمولی نہیں، بلکہ بعض ناموں کے بارے میں خاص ہدایت دی گئی ہے۔ بچے یا خادم کا نام رکھتے وقت اچھا نام منتخب کرنا اور منع کیے گئے ناموں سے بچنا بہتر ہے، خاص طور پر جب حدیث میں نام لے کر ممانعت آئی ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • افلح، رباح، یسار اور نافع نام غلاموں کے لیے رکھنے سے منع کیا گیا۔
  • نام رکھتے وقت حدیث کی رہنمائی کو سامنے رکھنا چاہیے۔
  • خاص ناموں کے بارے میں ممانعت آئے تو اس کا خیال رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں