صحیح مسلم حدیث ۵۵۹۸ - نیک لوگوں کے نام پر نام رکھنا
نیک لوگوں کے نام پر نام رکھنے کی حدیث: یا اخت ہارون کا جواب
صحیح مسلم : ۵۵۹۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۹۸
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ نُمَيْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قال : لَمَّا قَدِمْتُ نَجْرَانَ سَأَلُونِي ، فَقَالُوا : إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ يَا أُخْتَ هَارُونَ وَمُوسَى قَبْلَ عِيسَى بِكَذَا وَكَذَا ، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهُ ، عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَمُّونَ بِأَنْبِيَائِهِمْ وَالصَّالِحِينَ قَبْلَهُمْ " .
مغیرہ بن شعبہ روایت:
جب میں نجران میں آیا تو وہاں کے لوگوں نے (نصاریٰ نے) مجھ پر اعتراض کیا تم (سورۂ مریم میں) پڑھتے ہو «يَا أُخْتَ هَارُونَ» (۱۹-مریم:۲۸) (سیدہ مریم کو ہارون کی بہن کہا ہے) حالانکہ (ہارون علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کے بھائی تھے اور) موسیٰ علیہ السلام عیسیٰ علیہ السلام سے اتنی مدت پہلے تھے (پھر مریم، ہارون علیہ السلام کی بہن کیونکر ہو سکتی ہے) جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”(یہ وہ ہارون تھوڑے ہیں جو موسیٰ علیہ السلام کے بھائی تھے) بلکہ بنی اسرائیل کی عادت تھی (جیسے اب سب کی عادت ہے) کہ وہ پیغمبروں اور اگلے نیکوں کے نام پر نام رکھتے تھے۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۵۹۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔ جب وہ نجران گئے تو وہاں کے لوگوں نے سوال کیا کہ قرآن میں سیدہ مریم کو یا اخت ہارون کیوں کہا گیا، حالانکہ موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان بڑا زمانہ تھا۔ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ لوگ اپنے انبیاء اور پہلے نیک لوگوں کے نام پر نام رکھتے تھے۔ اس حدیث کا اصل موضوع نیک نام ہے۔ اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ کسی نبی یا نیک شخص کے نام پر نام رکھنا سابقہ لوگوں میں معروف تھا۔ حدیث سوال کا جواب بھی دیتی ہے اور نام رکھنے کی ایک اچھی وجہ بھی بتاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پہلے لوگ انبیاء اور نیک لوگوں کے نام پر نام رکھتے تھے۔
- کسی نام کی نسبت سمجھنے میں زمانے اور عادت کا خیال رکھا جا سکتا ہے۔
- سوال ہو تو علم والے سے پوچھ کر بات سمجھنی چاہیے۔
