صحیح مسلم حدیث ۵۵۹۷ - میرے نام پر نام رکھو
میرے نام پر نام رکھو: نام محمد کی مختصر حدیث
صحیح مسلم : ۵۵۹۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۹۷
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قال : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي ، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي " ، قَالَ عَمْرٌو : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت مت رکھو۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۵۹۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت مت رکھو۔ یہ روایت مختصر ہے، مگر مسئلہ بہت صاف بیان کرتی ہے۔ نام محمد رکھنے کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ ابوالقاسم کنیت رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ پچھلی روایات میں اس کی وجہ بھی آئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قاسم ہیں، یعنی تقسیم کرنے والے ہیں۔ اس حدیث میں صرف اصل حکم بیان ہوا ہے۔ اس لیے جو لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا بچے کا نام محمد رکھا جا سکتا ہے، ان کے لیے یہ حدیث واضح جواب دیتی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی یاد رہتا ہے کہ کنیت کے باب میں احتیاط ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر نام رکھا جا سکتا ہے۔
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت رکھنے سے منع فرمایا گیا ہے۔
- مختصر حدیث بھی واضح حکم بیان کر سکتی ہے۔
