صحیح مسلم حدیث ۵۵۹۱ - میرا نام رکھو، میری کنیت نہ رکھو
میرا نام رکھو میری کنیت نہ رکھو: مشہور حدیث
صحیح مسلم : ۵۵۹۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۹۱
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي ، فَإِنِّي أَنَا أَبُو الْقَاسِمِ أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ " ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ وَلَا تَكْتَنُوا .
جابر بن عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا نام رکھو لیکن میری کنیت نہ رکھو کیونکہ میں ابوالقاسم ہوں بانٹتا ہوں تم میں۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۵۹۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت نہ رکھو، کیونکہ میں ابوالقاسم ہوں اور تم میں تقسیم کرتا ہوں۔ یہ الفاظ بہت صاف ہیں۔ ایک طرف نام محمد رکھنے کی اجازت دی گئی، دوسری طرف ابوالقاسم کنیت سے منع فرمایا گیا۔ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کنیت کی وجہ بھی بیان فرمائی کہ آپ قاسم ہیں، یعنی تقسیم فرماتے ہیں۔ اس سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ اسلامی نام اور کنیت کے مسائل میں اپنی پسند کے ساتھ حدیث کی رہنمائی بھی دیکھی جائے۔ یہ روایت نام محمد رکھنے کی حدیث کے طور پر بہت زیادہ تلاش کی جاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر نام رکھا جا سکتا ہے۔
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت ابوالقاسم نہ رکھی جائے۔
- حکم کے ساتھ بیان کی گئی وجہ کو بھی سمجھنا چاہیے۔
