صحیح مسلم حدیث ۵۵۹۰ - نام محمد اور کنیت ابوالقاسم
کنیت ابوالقاسم کی حدیث: نام اور کنیت میں فرق
صحیح مسلم : ۵۵۹۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۹۰
حَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ ، فَإِنَّمَا بُعِثْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۵۹۰ کا خلاصہ
اس روایت میں وہی مضمون آیا ہے جو اوپر بیان ہوا۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر نام رکھنے کی اجازت ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس روایت میں یہ الفاظ نہیں آئے کہ میں قاسم بنا کر بھیجا گیا ہوں اور تم میں تقسیم کرتا ہوں، مگر اصل حکم وہی ہے جو پچھلی روایت میں تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کے الفاظ کبھی مختصر بھی نقل ہوتے ہیں، مگر مضمون واضح رہتا ہے۔ نام محمد رکھنے کی حدیث میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ نام رکھنے کی اجازت اور کنیت ابوالقاسم سے رکنے کا حکم الگ الگ سمجھا جائے۔ مسلمان کے لیے بہتر ہے کہ وہ نام اور کنیت کے معاملے میں حدیث کی ہدایت کو سامنے رکھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نام محمد رکھنے کی اجازت اس مضمون میں موجود ہے۔
- ابوالقاسم کنیت سے بچنے کا حکم برقرار ہے۔
- مختصر روایت میں بھی اصل حکم کو سمجھنا چاہیے۔
