صحیح مسلم حدیث ۵۵۹۲ - قاسم ہوں، تم میں تقسیم کرتا ہوں
نام محمد کی حدیث: میں قاسم ہوں، تم میں تقسیم کرتا ہوں
صحیح مسلم : ۵۵۹۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۹۲
وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : إِنَّمَا جُعِلْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۵۹۲ کا خلاصہ
اس روایت میں اسی مضمون کو دوسرے الفاظ کے ساتھ نقل کیا گیا ہے۔ الفاظ میں یہ بات آئی کہ مجھے قاسم بنایا گیا ہے، میں تم میں تقسیم کرتا ہوں۔ پچھلی روایتوں کی طرح اس کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر نام رکھا جا سکتا ہے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت نہیں رکھی جائے گی۔ یہ حدیث نام اور کنیت کے فرق کو مزید واضح کرتی ہے۔ نام ایک پہچان ہے، جبکہ کنیت ایک الگ نسبت اور پکار کا انداز ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کنیت سے منع فرمایا تو مسلمان کے لیے اسی حکم کو ماننا مناسب ہے۔ اس حدیث میں قاسم ہونے کا ذکر بھی اسی حکم کی وجہ کے طور پر سمجھ آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نام محمد رکھنے کی اجازت پچھلی روایتوں کی طرح یہاں بھی سمجھ آتی ہے۔
- ابوالقاسم کنیت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خاص نسبت سے جوڑا۔
- دینی حکم میں الفاظ اور نسبت دونوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔
