صحیح مسلم حدیث ۵۵۹۳ - انصار اور نام محمد رکھنے کی اجازت

انصاری بچے کا نام محمد: نام رکھنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۹۳

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ ، فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : " أَحْسَنَتْ الْأَنْصَارُ سَمُّوا بِاسْمِي وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي " .

جابر بن عبداللہ روایت:

ایک انصاری کا لڑکا پیدا ہوا، اس نے چاہا اس کا نام محمد رکھنا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا کیا انصار نے، نام رکھو میرے نام پر لیکن میری کنیت مت رکھو۔“

صحیح مسلم حدیث ۵۵۹۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اور اس نے چاہا کہ اس کا نام محمد رکھے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس بارے میں سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انصار نے اچھا کیا، میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت نہ رکھو۔ اس حدیث میں نام محمد رکھنے کی اجازت ایک واقعے کے ذریعے سامنے آتی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی صاف کیا گیا کہ ابوالقاسم کنیت نہ رکھی جائے۔ حدیث کا لہجہ آسان ہے: اچھا نام رکھنا پسندیدہ بات ہے، مگر کنیت کے معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کا خیال رکھا جائے۔ اس لیے یہ روایت بچوں کے اسلامی نام کے موضوع میں بہت متعلق ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • انصاری بچے کا نام محمد رکھنے کی خواہش کو اچھا کہا گیا۔
  • نام محمد رکھنے کی اجازت اس حدیث میں واضح ہے۔
  • کنیت ابوالقاسم رکھنے سے منع فرمایا گیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں