صحیح مسلم حدیث ۵۵۸۸ - نام محمد اور کنیت ابوالقاسم کا فرق
نام محمد رکھنے کی حدیث: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا صاف حکم
صحیح مسلم : ۵۵۸۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۸۸
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا ، وقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ ، فَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا ، فَقَالَ لَهُ قَوْمُهُ : لَا نَدَعُكَ تُسَمِّي بِاسْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقَ بِابْنِهِ حَامِلَهُ عَلَى ظَهْرِهِ ، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وُلِدَ لِي غُلَامٌ فَسَمَّيْتُهُ مُحَمَّدًا ، فَقَالَ لِي قَوْمِي : لَا نَدَعُكَ تُسَمِّي بِاسْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي ، فَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
ہم میں سے ایک شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اس نے اس کا نام محمد رکھا۔ اس کی قوم نے کہا اس سے: ہم تجھے یہ نام نہیں رکھنے دیں گے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام رکھتا ہے پھر وہ شخص اپنے بچے کو اپنی پیٹھ پر لاد کر لایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا لڑکا پیدا ہوا میں نے اس کا نام محمد رکھا میری قوم کے لوگ کہتے ہیں ہم تجھے نہیں چھوڑنے کے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام رکھتا ہے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا نام رکھو لیکن میری کنیت (یعنی ابوالقاسم) نہ رکھو کیونکہ قاسم میں ہوں تقسیم کرتا ہوں تم میں جو کچھ ملتا ہے۔“ (غنیمت کا مال یا زکوٰۃ اس لیے اور کسی شخص کو ابوالقاسم نام رکھنا زیبا نہیں)۔
صحیح مسلم حدیث ۵۵۸۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اور اس نے اس کا نام محمد رکھا۔ اس کی قوم نے اسے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نہیں رکھ سکتا۔ وہ شخص بچے کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بات عرض کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا نام رکھو لیکن میری کنیت نہ رکھو، کیونکہ میں قاسم ہوں اور تم میں تقسیم کرتا ہوں۔ اس حدیث کا اصل موضوع نام محمد اور کنیت ابوالقاسم ہے۔ حدیث میں نام رکھنے کی اجازت بہت صاف ہے، مگر کنیت کے بارے میں الگ حکم بیان ہوا۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ نام اور کنیت ایک ہی چیز نہیں، دونوں میں فرق سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بچے کا نام محمد رکھنا اس حدیث میں جائز بتایا گیا ہے۔
- ابوالقاسم کنیت رکھنے سے منع فرمایا گیا ہے۔
- نام اور کنیت کے فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔
