صحیح مسلم حدیث ۵۵۸۶ - نام محمد رکھنا اور کنیت ابوالقاسم

نام محمد رکھنے کی حدیث: کنیت ابوالقاسم نہ رکھنے کا حکم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۸۶

حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ : أَخْبَرَنَا وقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا وَاللَّفْظُ لَهُ ، قالا : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِيَانِ الْفَزَارِيَّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قال : نَادَى رَجُلٌ رَجُلًا بِالْبَقِيعِ : يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنِّي لَمْ أَعْنِكَ إِنَّمَا دَعَوْتُ فُلَانًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي " .

انس روایت:

ایک شخص نے دوسرے شخص کو پکارا بقیع میں، اے ابوالقاسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادھر دیکھا وہ شخص بولا: یا رسول اللہ! میں نے آپ کو نہیں پکارا تھا بلکہ فلاں شخص کو پکارا تھا (اس کی کنیت بھی ابوالقاسم ہو گی)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نام رکھو میرے نام سے اور مت کنیت رکھو میری کنیت سے۔“

صحیح مسلم حدیث ۵۵۸۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بقیع میں ایک شخص نے کسی کو اے ابوالقاسم کہہ کر پکارا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرف دیکھا، تو پکارنے والے نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ، میں نے آپ کو نہیں پکارا بلکہ ایک دوسرے شخص کو پکارا ہے۔ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت نہ رکھو۔ اس حدیث کا اصل موضوع نام اور کنیت ہے۔ یہاں نام محمد رکھنے کی اجازت صاف طور پر موجود ہے، مگر ابوالقاسم کنیت کے بارے میں ممانعت بیان ہوئی۔ حدیث ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ الفاظ اور پکارنے کے انداز میں احتیاط ہونی چاہیے، خاص طور پر جب کوئی لفظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاص نسبت سے معروف ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نام محمد رکھنا اس حدیث میں جائز بتایا گیا ہے۔
  • آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کنیت ابوالقاسم رکھنے سے منع فرمایا۔
  • پکارنے اور کنیت استعمال کرنے میں احتیاط کرنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں