صحیح مسلم حدیث ۵۵۹۶ - عبدالرحمٰن نام کی رہنمائی
عبدالرحمٰن نام کی حدیث: بچے کے نام میں اچھا انتخاب
صحیح مسلم : ۵۵۹۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۹۶
وحدثني أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ . ح وحدثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ كِلَاهُمَا ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ وَلَا نُنْعِمُكَ عَيْنًا .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۵۹۶ کا خلاصہ
اس روایت میں پچھلی حدیث جیسا مضمون مروی ہے۔ ایک بچے کا نام قاسم رکھنے کا واقعہ پیش آیا، پھر بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کا نام عبدالرحمٰن رکھنے کی ہدایت فرمائی۔ اس روایت میں ایک جملہ کم ہے، مگر اصل بات وہی ہے کہ نام کے معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی کو مانا جائے۔ عبدالرحمٰن نام اس لیے بھی خاص ہے کہ دوسری حدیث میں اسے اللہ کے نزدیک محبوب ناموں میں ذکر کیا گیا ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی نام یا کنیت سے الجھن پیدا ہو تو بہتر نام کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔ بچوں کے اسلامی نام تلاش کرنے والوں کے لیے یہ روایت سادہ اور واضح رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بچے کے نام کے معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی لی گئی۔
- عبدالرحمٰن ایک اچھا اور پسندیدہ نام ہے۔
- نام یا کنیت سے الجھن ہو تو بہتر انتخاب کیا جا سکتا ہے۔
