صحیح مسلم حدیث ۵۶۴۳ - گھر میں جھانکنے سے بچاؤ

گھر میں جھانکنے والے کے بارے میں حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۴۳

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ عَلَيْكَ بِغَيْرِ إِذْنٍ ، فَخَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ جُنَاحٍ " .

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص جھانکے تیرے گھر میں تیری اجازت کے بغیر پھر اس کو کنکری سے مارے اور اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تیرے اوپر کچھ گناہ نہ ہو گا۔“

صحیح مسلم حدیث ۵۶۴۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں گھر کی حفاظت اور اجازت کے بغیر جھانکنے کے مسئلے کو صاف الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص تمہارے گھر میں تمہاری اجازت کے بغیر جھانکے، پھر تم اسے کنکری مارو اور اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر گناہ نہیں۔ یہ بات اس لیے بیان ہوئی کہ گھر کے اندر کا معاملہ نجی ہوتا ہے۔ کوئی شخص بغیر اجازت اندر دیکھے تو وہ دوسروں کے پردے کو توڑتا ہے۔ گھر میں جھانکنے کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اسلام صرف دروازہ کھٹکھٹانے کا ادب نہیں سکھاتا بلکہ نظر کے ادب کو بھی اہم سمجھتا ہے۔ اس حدیث کا پیغام یہ ہے کہ دوسروں کے گھروں، کمروں اور ذاتی جگہوں کا احترام کیا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اجازت کے بغیر کسی کے گھر میں دیکھنا غلط ہے۔
  • گھر والوں کی نجی جگہ کا احترام لازم ہے۔
  • دوسروں کے پردے کی حفاظت مسلمان کے اچھے اخلاق میں شامل ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں