صحیح مسلم حدیث ۵۶۴۴ - اچانک نظر پڑ جائے تو کیا کریں
اچانک نظر پڑنے کی حدیث اور نگاہ کی حفاظت
صحیح مسلم : ۵۶۴۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۴۴
حَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ كِلَاهُمَا ، عَنْ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : " سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظَرِ الْفُجَاءَةِ ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِي " .
جریر بن عبداللہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اچانک نظر پڑنے کو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا مجھ کو نگاہ پھیر لینے کا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۶۴۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع نگاہ کی حفاظت ہے۔ سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اچانک نظر پڑنے کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ اپنی نگاہ پھیر لیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر پہلی نظر بغیر ارادے کے پڑ جائے تو آدمی کو اسے جاری نہیں رکھنا چاہیے۔ اچانک نظر پڑنے کی حدیث بہت آسان بات سکھاتی ہے: نظر کو فوراً ہٹا لو۔ اسلام انسان کو غیر ضروری دیکھنے، تاکنے اور دل میں برے خیال پیدا کرنے والے کاموں سے بچاتا ہے۔ غض بصر یعنی نگاہ نیچی رکھنا صرف عبادت گاہ میں نہیں، روزمرہ زندگی میں بھی ضروری ادب ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اچانک نظر پڑ جائے تو اسے جاری نہ رکھا جائے۔
- نگاہ فوراً پھیر لینا بہتر اور محفوظ راستہ ہے۔
- نظر کی حفاظت انسان کے اخلاق اور حیا سے جڑی ہوئی ہے۔
