حدیث ۵۶۴۷
صحیح مسلم : ۵۶۴۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۴۷
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : قَالَ أَبُو طَلْحَةَ : كُنَّا قُعُودًا بِالْأَفْنِيَةِ نَتَحَدَّثُ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : " مَا لَكُمْ وَلِمَجَالِسِ الصُّعُدَاتِ ، اجْتَنِبُوا مَجَالِسَ الصُّعُدَاتِ ؟ " فَقُلْنَا : إِنَّمَا قَعَدْنَا لِغَيْرِ مَا بَاسٍ قَعَدْنَا نَتَذَاكَرُ وَنَتَحَدَّثُ ، قَالَ : " إِمَّا لَا فَأَدُّوا حَقَّهَا غَضُّ الْبَصَرِ وَرَدُّ السَّلَامِ وَحُسْنُ الْكَلَامِ " .
سیدنا عبداللہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم بیٹھے تھے مکان کے سامنے جو زمین ہوتی ہے اس میں باتیں کرتے ہوئے اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کو راہ میں بیٹھنے سے کیا مطلب۔“ ہم نے عرض کیا، یا رسول اللہ! ہم کسی برے کام کے لیے نہیں بیٹھے بلکہ ہم بیٹھے تھے چپ ادھر ادھر کے ذکر کرتے ہوئے اور باتیں کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا اگر نہیں مانتے تو اس کا حق ادا کرو وہ کیا ہے؟ آنکھ نیچے رکھنا (اور اجنبی عورتوں کی طرف نظر بد نہ کرنا) اور سلام کا جواب دینا اور اچھی باتیں کرنا۔“ (جن سے لوگ خوش ہوں اور ان سے فائدہ پہنچے)۔
