صحیح مسلم حدیث ۵۶۴۶ - سلام کرنے کے آداب
سلام کرنے کے آداب پر خوبصورت حدیث
صحیح مسلم : ۵۶۴۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۴۶
حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ ، أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلام کرے سوار پیدل پر اور پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے پر اور سلام کریں تھوڑے لوگ بہت لوگوں پر۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۶۴۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع سلام کے آداب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سوار آدمی پیدل چلنے والے کو سلام کرے، پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے، اور کم لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں۔ یہ تعلیم بہت سادہ مگر معاشرتی زندگی کے لیے نہایت مفید ہے۔ سلام صرف الفاظ نہیں، بلکہ احترام، محبت اور تعلق کا خوبصورت طریقہ ہے۔ سلام کرنے کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ مسلمان ملاقات میں پہل کرنے سے جھجک نہ کرے۔ اس میں بڑائی نہیں، بلکہ اچھا اخلاق ہے۔ اسلام نے چھوٹے بڑے، چلنے بیٹھنے اور جماعت کی صورتوں تک میں سلام کا ادب سکھایا تاکہ لوگوں کے درمیان نرمی، پہچان اور خیرخواہی پیدا ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سلام میں پہل کرنا اچھے اخلاق کی علامت ہے۔
- سوار پیدل کو اور پیدل بیٹھے ہوئے کو سلام کرے۔
- کم لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں، یہ مجلس کا ادب ہے۔
