صحیح مسلم حدیث ۵۶۵۱ - مسلمان کے چھ حقوق
مسلمان کے مسلمان پر چھ حقوق کی حدیث
صحیح مسلم : ۵۶۵۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۵۱
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ " قِيلَ : مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ ، وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ ، وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ ، وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَسَمِّتْهُ ، وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ ، وَإِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْهُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کے حق مسلمان پر چھ ہیں۔“ لوگوں نے عرض کیا، کیا: یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو مسلمان کو ملے تو اس کو سلام کر اور جب وہ تیری دعوت کرے تو قبول کر اور جب تجھ سے مشورہ چاہے تو اچھی صلاح دے جب چھینکے اور «الْحَمْدُ لِلَّـهِ» کہے تو تو بھی جواب دے (یعنی «یَرْحَمْک۔ اللہُ» کہہ) اور جب بیمار ہو تو اس کی بیمار پرسی کو جا اور جب مر جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ رہ۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۶۵۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع مسلمان کے حقوق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کے مسلمان پر چھ حق ہیں۔ جب اسے ملو تو سلام کرو، جب وہ دعوت دے تو قبول کرو، جب وہ مشورہ چاہے تو خیرخواہی کے ساتھ اچھی صلاح دو، جب وہ چھینک کر الحمدللہ کہے تو جواب دو، جب بیمار ہو تو بیمار پرسی کرو، اور جب مر جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ رہو۔ مسلمان کے چھ حقوق کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ تعلقات صرف نام کے نہیں ہوتے، ان کے عملی تقاضے بھی ہوتے ہیں۔ سلام، نصیحت، بیمار پرسی اور جنازہ سب ایک دوسرے کے لیے احترام اور خیرخواہی کے طریقے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ملاقات پر سلام کرنا مسلمان کا حق ہے۔
- مشورہ مانگنے والے کو خیرخواہی سے صلاح دینی چاہیے۔
- بیماری اور وفات کے وقت مسلمان بھائی کا ساتھ دینا اہم حق ہے۔
