صحیح مسلم حدیث ۵۶۵۲ - اہل کتاب کے سلام کا جواب
اہل کتاب کے سلام کا جواب دینے کی حدیث
صحیح مسلم : ۵۶۵۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۵۲
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قال : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يقول : قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کو اہل کتاب سلام کریں تو تم اس کے جواب میں «وَعَلَیٌکُمْ» کہو۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۶۵۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع سلام کا جواب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اہل کتاب تمہیں سلام کریں تو جواب میں وعلیکم کہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے موقع پر جواب مختصر اور محتاط ہونا چاہیے۔ اہل کتاب کے سلام کا جواب والی حدیث ہمیں بات چیت کا ایک واضح ادب سکھاتی ہے۔ انسان جذبات میں آ کر سخت الفاظ نہ کہے، بلکہ وہی جواب دے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا۔ اس حدیث میں لمبی بحث نہیں، صرف ایک عملی جملہ بتایا گیا ہے: وعلیکم۔ یہ بات روزمرہ گفتگو میں بھی مدد دیتی ہے کہ جواب دیتے وقت زبان کو قابو میں رکھا جائے اور معاملہ حد سے آگے نہ بڑھایا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اہل کتاب کے سلام کا جواب وعلیکم سے دیا جائے۔
- جواب دیتے وقت زبان کو مختصر اور قابو میں رکھنا چاہیے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی صورت پر عمل کرنا بہتر ہے۔
