صحیح مسلم حدیث ۵۶۵۴ - السام علیکم کا جواب
السام علیکم کا جواب دینے کی حدیث
صحیح مسلم : ۵۶۵۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۵۴
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَيَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَي بْنِ يَحْيَي ، قَالَ يَحْيَي بْنُ يَحْيَي : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَر ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمُ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقُلْ عَلَيْكَ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود جب تم کو سلام کرتے ہیں تو ان میں سے ایک کہتا ہے: «السَّامُ عَلَيْكُمْ» یعنی تم مرو «سام» کے معنی موت ہے تو تم کہو: «عَلَيْكَ» یعنی تم مرو۔
صحیح مسلم حدیث ۵۶۵۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع سلام کے جواب میں احتیاط ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہود جب تمہیں سلام کرتے ہیں تو ان میں سے کوئی السام علیکم کہتا ہے، یعنی موت تم پر ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جواب میں علیک کہو۔ السام علیکم کا جواب حدیث ہمیں زبان کے معاملے میں بہت واضح راستہ دیتی ہے۔ جب سامنے والا لفظوں میں دھوکا یا برا مطلب رکھے، تو مسلمان کو بے قابو ہو کر جواب نہیں دینا چاہیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختصر جواب سکھایا، جس سے بات واپس اسی پر رہتی ہے۔ اس حدیث میں اصل سبق یہ ہے کہ جواب میں احتیاط، سمجھ اور ضبط ہونا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- برے لفظ کا جواب حد سے بڑھ کر نہیں دینا چاہیے۔
- السام علیکم کے جواب میں علیک کہنا سکھایا گیا ہے۔
- زبان کے معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم پر عمل کرنا چاہیے۔
