صحیح مسلم حدیث ۵۶۵۵ - وعلیک کا جواب
وعلیک کہنے کی حدیث اور سلام کا جواب
صحیح مسلم : ۵۶۵۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۵۵
وحدثني زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : فَقُولُوا وَعَلَيْكَ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۶۵۵ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلے مضمون ہی کو بیان کرتی ہے، فرق یہ ہے کہ اس میں جواب کے الفاظ وعلیک آئے ہیں۔ اس کا اصل موضوع سلام کے جواب میں احتیاط اور زبان کا ضبط ہے۔ جب یہود کی طرف سے السام علیکم جیسے الفاظ کہے جائیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبا یا سخت جواب نہیں سکھایا، بلکہ مختصر جواب بتایا۔ وعلیک کہنے کی حدیث ہمیں سمجھاتی ہے کہ ہر بات کا جواب غصے سے دینا ضروری نہیں۔ کبھی مختصر جواب ہی کافی ہوتا ہے۔ اس حدیث کا پیغام خاص طور پر گفتگو کے ادب سے متعلق ہے۔ اگر سامنے والا غلط لفظ استعمال کرے تو مسلمان اپنی زبان کو خراب نہ کرے، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے پر رہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غلط بات سن کر زبان کو قابو میں رکھنا چاہیے۔
- ایسے سلام کے جواب میں مختصر الفاظ کافی ہیں۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سکھائی ہوئی احتیاط گفتگو کو حد میں رکھتی ہے۔
