صحیح مسلم حدیث ۵۶۵۸ - بدزبانی سے بچنے کی حدیث
بدزبانی سے بچنے کی حدیث اور وعلیکم کا جواب
صحیح مسلم : ۵۶۵۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۵۸
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسٌ مِنْ الْيَهُودِ ، فَقَالُوا : السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، قَالَ : " وَعَلَيْكُمْ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : قُلْتُ بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَالذَّامُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ : " لَا تَكُونِي فَاحِشَةً " ، فَقَالَتْ : مَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا ؟ فَقَالَ : " أَوَلَيْسَ قَدْ رَدَدْتُ عَلَيْهِمُ الَّذِي قَالُوا قُلْتُ : وَعَلَيْكُمْ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چند یہودی آئے۔ انہوں نے کہا: «السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ» آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وَعَلَيْكُمْ» “، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: «بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَالذَّامُ» یعنی تمہارے ہی اوپر موت ہو اور برائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! زبان بری نہ کرو۔“ انہوں نے کہا: آپ نے نہیں سنا یہود نے جو کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے سنا جو انہوں نے کہا اور کیا میں نے جواب نہیں دیا جو انہوں نے کہا وہ انہی پر پھیر دیا۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۶۵۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع بدزبانی سے بچنا ہے۔ چند یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے السام علیک یا ابا القاسم کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وعلیکم فرمایا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سخت الفاظ کہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! بدزبان نہ بنو۔ پھر آپ نے بتایا کہ میں نے ان کی بات سن لی اور جو انہوں نے کہا تھا، اسے ان پر لوٹا دیا۔ بدزبانی سے بچنے کی حدیث ہمیں سمجھاتی ہے کہ غلط بات کا جواب غلط زبان سے نہیں دینا چاہیے۔ انسان کو حق بات کہتے ہوئے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنی چاہیے۔ مختصر جواب کبھی لمبی بحث سے بہتر ہوتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- برا سن کر بھی بدزبانی سے بچنا چاہیے۔
- وعلیکم کہنا ایسے موقع پر کافی جواب ہے۔
- جواب دیتے وقت زبان کی حفاظت ضروری ہے۔
