صحیح مسلم حدیث ۵۶۵۷ - نرمی کے ساتھ جواب دینا

نرمی کے ساتھ جواب دینے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۵۷

وحدثنا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ قُلْتُ عَلَيْكُمْ وَلَمْ يَذْكُرُوا الْوَاوَ .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں «عَلیْکُمْ» بغیر واؤ کے ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۵۶۵۷ کا خلاصہ

یہ روایت اسی واقعے کے مضمون کو بیان کرتی ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت جواب کے بجائے مختصر جواب کو کافی قرار دیا۔ اس روایت میں الفاظ کے فرق کا ذکر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علیکم فرمایا اور واؤ کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اصل موضوع پھر بھی نرمی اور زبان کا ادب ہے۔ جب سامنے والے کی بات میں سختی یا برا مطلب ہو، تب بھی مسلمان کے لیے بہتر ہے کہ اپنی زبان کو قابو میں رکھے۔ نرمی کی حدیث ہمیں یہ نہیں سکھاتی کہ غلط بات کو اچھا سمجھو، بلکہ یہ سکھاتی ہے کہ جواب دیتے وقت بدزبانی نہ کی جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ مختصر، سنبھلا ہوا اور ادب والا تھا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جواب میں الفاظ کو قابو میں رکھنا چاہیے۔
  • سخت موقع پر بھی نرمی اختیار کرنا پسندیدہ ہے۔
  • بدزبانی سے بچنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں