صحیح مسلم حدیث ۵۶۵۹ - فحش کلامی سے بچنا
اللہ بدزبانی کو پسند نہیں کرتا: حدیث کی وضاحت
صحیح مسلم : ۵۶۵۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۵۹
حَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : فَفَطِنَتْ بِهِمْ عَائِشَةُ ، فَسَبَّتْهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَهْ يَا عَائِشَةُ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ " ، وَزَادَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ سورة المجادلة آية 8 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
اعمش روایت:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان کی بات کو سمجھ گئیں انہوں نے برا بھلا کہا۔ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر کر عائشہ! کیونکہ اللہ تعالیٰ بدزبان کو پسند نہیں کرتا۔ ”تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «وَإِذَا جَاؤُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ» (۵۸- المجادلة:۸) یعنی ”جب وہ آتے ہیں تیرے پاس تو اس طور سے سلام کرتے ہیں کہ ویسا اللہ نے نہیں سلام کیا تجھ کو۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۶۵۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع فحش کلامی سے بچنا ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہودیوں کی بات سمجھ لی اور انہیں برا بھلا کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبر کرو عائشہ! کیونکہ اللہ فحش اور بدزبانی کو پسند نہیں کرتا۔ پھر آیت کا ذکر آیا کہ جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو ایسے الفاظ سے سلام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کو نہیں کہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ غلط بات سن کر انسان کو صبر اور زبان کی حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے۔ بدزبانی سے بچنے کی حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جواب دیتے وقت غصہ غالب نہ آئے۔ حق بات بھی اچھے الفاظ میں کہی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ تعالیٰ فحش کلامی اور بدزبانی کو پسند نہیں کرتا۔
- غلط بات سن کر صبر کرنا چاہیے۔
- زبان کو قابو میں رکھنا ایمان والے اخلاق میں شامل ہے۔
