صحیح مسلم حدیث ۵۶۶۱ - اہل کتاب کو سلام میں پہل کا حکم
اہل کتاب کو سلام کرنے کی حدیث اور اس کا اصل حکم
صحیح مسلم : ۵۶۶۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۶۱
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَبْدَءُوا الْيَهُودَ وَلَا النَّصَارَى بِالسَّلَامِ ، فَإِذَا لَقِيتُمْ أَحَدَهُمْ فِي طَرِيقٍ فَاضْطَرُّوهُ إِلَى أَضْيَقِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود اور نصاریٰ کو اپنی طرف سے سلام مت کرو اور جب تم کسی یہودی یا نصرانی سے راہ میں ملو تو اس کو دبا دو تنگ راہ کی طرف۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۶۶۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع اہل کتاب کو سلام کرنے کا حکم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہود و نصاریٰ کو اپنی طرف سے سلام میں پہل نہ کرو۔ اسی کے ساتھ راستے میں ملنے کے بارے میں بھی ایک خاص حکم بیان ہوا کہ انہیں تنگ راستے کی طرف کیا جائے۔ اس حدیث کو سمجھتے ہوئے اصل الفاظ تک محدود رہنا ضروری ہے، کیونکہ یہاں خاص طور پر یہود و نصاریٰ کا ذکر ہے۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ سلام صرف عام ملاقات کا لفظ نہیں بلکہ دینی شناخت اور تعلق کا اظہار بھی ہے۔ اس لیے مسلمان کو سلام کے آداب، اہل کتاب سے معاملہ، اور دینی حدود کا خیال رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اہل کتاب کو سلام میں پہل نہ کرنے کا حکم اس حدیث میں صاف بیان ہوا ہے۔
- سلام کے آداب میں دینی فرق کا لحاظ رکھا گیا ہے۔
- راستے میں ملاقات کے بارے میں بھی ایک خاص ہدایت دی گئی ہے۔
