صحیح مسلم حدیث ۵۶۶۲ - اہل کتاب سے سلام کا معاملہ
اہل کتاب کو سلام میں پہل نہ کرنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۵۶۶۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۶۲
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ كُلُّهُمْ ، عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ ، إِذَا لَقِيتُمْ الْيَهُودَ ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قال : فِي أَهْلِ الْكِتَابِ ، وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ ، إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ وَلَمْ يُسَمِّ أَحَدًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۶۶۲ کا خلاصہ
اس روایت میں وہی مضمون آیا ہے جو پچھلی حدیث میں بیان ہوا۔ مختلف راویوں نے اسے اسی سند کے ساتھ نقل کیا، البتہ الفاظ میں کچھ فرق بھی آیا۔ کسی روایت میں یہود کا ذکر ہے، کسی میں اہل کتاب کا، اور کسی میں عمومی انداز سے بات آئی ہے۔ اصل سبق یہ ہے کہ اہل کتاب کو سلام میں پہل نہ کی جائے۔ یہ حدیث سلام کے آداب کے باب میں آتی ہے اور مسلمان کو بتاتی ہے کہ ہر معاشرتی عمل میں دین کی بتائی ہوئی حد کو سمجھنا چاہیے۔ یہاں ہمیں اپنی طرف سے اضافی باتیں شامل نہیں کرنی چاہئیں، بلکہ حدیث کے الفاظ کے مطابق بات کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روایت کے الفاظ میں فرق ہو سکتا ہے مگر اصل مضمون ایک ہی ہے۔
- اہل کتاب کو سلام میں پہل نہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
- حدیث سمجھتے وقت الفاظ اور سند کے فرق کا خیال رکھنا چاہیے۔
