صحیح مسلم حدیث ۵۶۶۶ - اجازت اور قربت کا خاص حکم

اجازت لینے کی حدیث اور ابن مسعودؓ کا خاص مقام

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۶۶

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كلاهما ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ ، قال : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ، قال : سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يقول : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ يُرْفَعَ الْحِجَابُ وَأَنْ تَسْتَمِعَ سِوَادِي حَتَّى أَنْهَاكَ " .

عبداللہ بن مسعود روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تیرے لیے آنے کی اجازت یہ ہے کہ وہ پردہ اٹھائے اور میرے بھید کی بات سنے جب تک کہ میں تجھ کو منع نہ کروں۔“

صحیح مسلم حدیث ۵۶۶۶ کا خلاصہ

اس حدیث کا موضوع اجازت اور خاص قربت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تمہارے لیے میرے پاس آنے کی اجازت یہ ہے کہ پردہ اٹھایا جائے اور تم میری راز کی بات سنو، جب تک میں تمہیں منع نہ کروں۔ اس حدیث میں عام لوگوں کے لیے کوئی عمومی حکم بیان نہیں ہوا، بلکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے لیے ایک خاص اجازت کا ذکر ہے۔ اس لیے اس کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے۔ اجازت کی حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ کسی کے پاس آنا، اندر جانا، یا خاص بات سننا اجازت کے ساتھ ہونا چاہیے۔ یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اجازت کی حد بھی بیان فرما دی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خاص مجلس یا راز کی بات میں اجازت ضروری ہے۔
  • یہ اجازت ابن مسعودؓ کے لیے خاص طور پر بیان ہوئی۔
  • اجازت کی حد وہی ہے جو اجازت دینے والا مقرر کرے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں