صحیح مسلم حدیث ۵۶۶۸ - پردہ اور ضرورت کے لیے نکلنے کی اجازت

پردہ کے بعد ضرورت کے لیے باہر نکلنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۶۸

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت : خَرَجَتْ سَوْدَةُ بَعْدَ مَا ضُرِبَ عَلَيْهَا الْحِجَابُ لِتَقْضِيَ حَاجَتَهَا ، وَكَانَتِ امْرَأَةً جَسِيمَةً تَفْرَعُ النِّسَاءَ جِسْمًا لَا تَخْفَى عَلَى مَنْ يَعْرِفُهَا ، فَرَآهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ يَا سَوْدَةُ : وَاللَّهِ مَا تَخْفَيْنَ عَلَيْنَا فَانْظُرِي كَيْفَ تَخْرُجِينَ ؟ قَالَتْ : فَانْكَفَأَتْ رَاجِعَةً وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم في بيتي ، وإنه ليتعشى وفي يده عرق فدخلت ، فقالت : يا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي خَرَجْتُ فَقَالَ لِي عُمَر ُ كَذَا وَكَذَا ، قَالَتْ : فَأُوحِيَ إِلَيْهِ ثُمَّ رُفِعَ عَنْهُ ، وَإِنَّ الْعَرْقَ فِي يَدِهِ مَا وَضَعَهُ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَكُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَاجَتِكُنَّ " ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ يَفْرَعُ النِّسَاءَ جِسْمُهَا ، زَادَ أَبُو بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ ، فَقَالَ هِشَامٌ : يَعْنِي الْبَرَازَ .

عائشہ روایت:

جب ہم کو پردے کا حکم ہوا اس کے بعد سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا حاجت کے لیے نکلیں اور وہ ایک موٹی عورت تھیں جو سب عورتوں سے نکلی رہتیں موٹاپے میں۔ اور جو کوئی ان کو پہچانتا تھا اس سے چھپ نہ سکتیں تھیں۔ (یعنی وہ پہچان لیتا) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھا اور کہا: اے سودہ! اللہ کی قسم! تم اپنے تئیں ہم سے چھپا نہیں سکتیں اس لیے سمجھو تم کیسی نکلتی ہو۔یہ سن کر وہ لوٹ آئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں رات کا کھانا کھا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک ہڈی تھی، اتنے میں سودہ رضی اللہ عنہا آئیں اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میں نکلی تھی تو عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے ایسا ویسا کلام کیا، اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی حالت ہوئی، پھر وہ حالت جاتی رہی اور ہڈی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ہی میں تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو رکھا نہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کو اجازت ہوئی حاجت کے لیے نکلنے کی۔“ ہشام نے کہا: حاجت سے مراد پائخانہ کی حاجت ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۵۶۶۸ کا خلاصہ

اس حدیث کا بنیادی موضوع پردہ اور ضرورت کے لیے باہر نکلنے کی اجازت ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ پردے کا حکم آنے کے بعد سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا اپنی حاجت کے لیے نکلیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں پہچان لیا اور بات کی۔ پھر سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور واقعہ بتایا۔ اسی وقت وحی کی حالت ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم عورتوں کو اپنی حاجت کے لیے نکلنے کی اجازت دی گئی ہے۔ حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ پردہ کے باوجود ضرورت کے وقت نکلنے کی اجازت موجود ہے۔ اس میں خاص طور پر حاجت کا ذکر ہے، اس لیے بات اسی حد میں رہنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • پردہ کے حکم کے بعد بھی حاجت کے لیے نکلنے کی اجازت دی گئی۔
  • حدیث میں اجازت کا سبب حاجت بیان ہوا ہے۔
  • دینی حکم سمجھتے وقت واقعہ کے الفاظ کو سامنے رکھنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں