صحیح مسلم حدیث ۵۶۷۳ - غیر محرم عورت کے پاس رات گزارنے کا حکم
غیر محرم عورت کے پاس رات گزارنے کی ممانعت
صحیح مسلم : ۵۶۷۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۷۳
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَي : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ ابْنُ حُجْرٍ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قالا : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال : قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا لَا يَبِيتَنَّ رَجُلٌ عِنْدَ امْرَأَةٍ ثَيِّبٍ إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَاكِحًا أَوْ ذَا مَحْرَمٍ " .
جابر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار رہو! کوئی مرد کسی عورت ثیبہ کے پاس رات کو نہ رہے مگر یہ کہ اس عورت کا خاوند ہو یا محرم ہو۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۶۷۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع غیر محرم سے احتیاط ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی مرد کسی ثیبہ عورت کے پاس رات نہ گزارے، مگر یہ کہ وہ اس کا شوہر ہو یا محرم ہو۔ حدیث کے الفاظ بہت واضح ہیں۔ اس میں خاص طور پر رات گزارنے کا ذکر ہے اور استثنا بھی بیان کر دیا گیا ہے: شوہر یا محرم۔ اس لیے اس حدیث کو غیر محرم عورت کے ساتھ تنہائی اور مشتبہ حالت سے بچنے کے باب میں سمجھا جاتا ہے۔ عام فہم انداز میں بات یہ ہے کہ اسلام ایسے مواقع سے بچاتا ہے جہاں غلط فہمی یا خرابی کا اندیشہ ہو۔ مگر یہاں بات کو حدیث کے الفاظ سے آگے نہیں بڑھانا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غیر محرم عورت کے پاس رات گزارنے سے منع کیا گیا ہے۔
- شوہر اور محرم کو حدیث میں استثنا دیا گیا ہے۔
- اسلام مشتبہ مواقع سے بچنے کی ہدایت دیتا ہے۔
