صحیح مسلم حدیث ۵۶۷۷ - شوہر کی غیر موجودگی میں گھر جانے کا حکم
شوہر کی غیر موجودگی میں عورت کے گھر جانے کی حدیث
صحیح مسلم : ۵۶۷۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۷۷
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ دَخَلُوا عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ وَهِيَ تَحْتَهُ يَوْمَئِذٍ ، فَرَآهُمْ فَكَرِهَ ذَلِكَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : لَمْ أَرَ إِلَّا خَيْرًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَهَا مِنْ ذَلِكَ " ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : " لَا يَدْخُلَنَّ رَجُلٌ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا عَلَى مُغِيبَةٍ إِلَّا وَمَعَهُ رَجُلٌ أَوِ اثْنَانِ " .
عبداللہ بن عمرو بن العاص روایت:
بنی ہاشم کے چند لوگ سیدہ اسماء بنت عمیس کے پاس گئے، سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی آئے اس وقت اسماء ان کے نکاح میں تھیں۔ انہوں نے ان کو دیکھا اور برا جانا ان کا آنا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا اور کہا: میں نے تو کوئی بری بات نہیں دیکھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسماء کو اللہ نے پاک کیا ہے برے فعل سے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”آج سے کوئی شخص اس عورت کے گھر میں نہ جائے جس کا خاوند غائب ہو (یعنی گھر میں نہ ہو) مگر ایک یا دو آدمی ساتھ لے کر۔
صحیح مسلم حدیث ۵۶۷۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع غیر محرم عورت کے گھر جانے میں احتیاط ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ بنی ہاشم کے کچھ لوگ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انہیں یہ بات اچھی نہ لگی۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا اور کہا کہ میں نے کوئی بری بات نہیں دیکھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے اسماء کو اس بات سے پاک کیا ہے۔ پھر آپ منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ آج کے بعد کوئی شخص ایسی عورت کے گھر نہ جائے جس کا شوہر موجود نہ ہو، مگر یہ کہ اس کے ساتھ ایک یا دو آدمی ہوں۔ یہ حدیث بدگمانی کو روکنے اور احتیاط سکھانے والی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شوہر کی غیر موجودگی میں عورت کے گھر اکیلے جانے سے منع کیا گیا ہے۔
- ایک یا دو آدمیوں کے ساتھ جانے کی اجازت بیان ہوئی ہے۔
- حدیث میں سیدہ اسماءؓ کی پاکی بھی بیان کی گئی ہے۔
